Tag Archives: slap

آخر اس بس ہوسٹس کا نام مریم نواز کیوں نہ تھا؟ – زین گردیزی

18 Jun

Originally posted for LUBP: http://criticalppp.com/archives/270103

Some in Pakistan are not able to access however so re posting on my personnel blog:

آخر اس بس ہوسٹس کا نام مریم نواز کیوں نہ تھا؟ – زین گردیزی

ہاۓ افسوس!

اس کے والدین سے یہ خطا کیوں ہوئی
ان کو دیکھ بھال کر لینا چاہئیے تھا. ادھر ادھر سے پتا کراتے. آج کل کے تخت نشینوں نے اپنے بچوں کے نام کیا رکھے ہیں. تب شاید کوئی افاقہ ہو جاتا. ذرا سی چوک ہی تو تھی. ‘نواز’ تک تو کام پورا تھا. اب اقرا کی جگہ مریم ہی رکھ لیتے.تب شاید جان بخشی ہو جاتی. تب شاید نگہت صاحبہ اپنی سیٹ بھی خالی کر کے اس کے قدموں میں ڈال دیتیں

یقینن ماں باپ کا قصور ہے
.
انہی کا ہی ظاہر ہے قصور ہے. آخر اس کا باپ کبھی کوئی بڑا افسر کیوں نہ بن سکا؟ اگر سی ایس ایس کر لیتا تو پھر اس کی بیٹی کو ایک ہوسٹسس بننے کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی؟ دوسروں کو پانی اور ڈبے پیش کرنے کے بجاۓ یار لوگ اس کے والد کی کرم نوازی پہ اسے اور اس کے بھایوں کو تحائف دے رہے ہوتے. آخر اس کا باپ کسی کالے کوٹ مافیا کا حصّہ کیوں نہ بن سکا؟ تب جا کر شاید کسی عدل کی گھنٹی بجتی، کوئی انصاف کا ترازو اپنے میزان پہ سمبھلتا، کوئی نوٹس بھیجے جاتے، کوئی سرزنش کی جاتی. اس کا اپنا بھی قصور ہے. تھپڑ کھانے کے لیے نوں لیگ جیسی عظیم جماعت کی رکن ہی ملی تھی؟ کسی اور سے ہی کھا لیتی. لے دے کے بات ووہی آ جاتی ہے. اس کا باپ آخر ایک طاقت کے نشے میں چور پارٹے کا سربراہ کیوں نہیں تھا؟ اور اس نی اس کا نام مریم کیوں نہ رکھا؟

یقیناً ماں باپ کا قصور ہے
.
آخر اس دو کوڑی کے مڈل کلاس کمی کو یہ جرات ہی کیوں ہوئی کہ وہ اپنی بیٹی کو ایک حق حلال روزی روٹی کے کام کی اجازت دیتا؟ اسے اس کے لیے کوئی اچھے رشتے کی تلاش کر لینی چاہئیے تھی ور جب تک نہ ملتا گھر می بڈھا رکھنا چاہئیے تھے کونکہ وہی اس کا مقام ہے. اب نتیجہ خود بھگتے. کیا اس نی اپنی اس سر پھری لڑکی کو اتنا بھی نہ سمجھایا کہ ایک مریض کو فورا پانی دینے کے بجاۓ جو اس ملک کے مائی باپ ہیں ان کے حکم کی تعمیل زیادہ ضروری ہے؟ یہی مسلہ ہے ان سر پھری لڑکیوں کو پڑھانے کا. خود سے سوچنا شروع کر دیتی ہیں. محنت کی کمائی کے بجاۓ اگر چاپلوسی کے گر سکھاۓ ہوتے تو شاید کوئی مرہم انہیں بھی ریزرو سیٹ پہ ‘نواز’ دیتیں.

یقیناً ماں باپ کا قصور ہے