Archive | January, 2013

Jan lo keh tum sab qaatil ho

18 Jan


جان لو کہ تم سب قاتل ہو
جہنمی گروھ باطل ہو

ہر وقت ہر مسلک کے، کیڑے نکالتے رہتے ہو
اسلام سے مسلمانوں کو، خارج کراتے رہتے ہو
کبھی ‘ان’ کو بھی روک کے پوچھا ہے؟
کیوں بیجرم خون بہاتے رہتے ہو؟

قاتلو میں تم بھی شامل ہو
اس گندی سوچ کے حامل ہو
جہالت خود جس سے پناہ مانگے
ایسے  تکفیری جاہل ہو

جان لو کہ تم سب قاتل ہو

تمہاری ستاروں والی وردی میں، اس قوم کے خون کی زردی ہے
الٹی سیدھی تدبیروں نے، کیا ملک کی حالت کر دی ہے
ایسی تو نہیں پھر کہتے سب
دہشتگردی کے پیچھے وردی ہے

یہ کاٹنے والے کتے سب، تمہارے ہی تو پالے ہیں
بھرے بریف کیسوں کی خاطر، تمھاری آنکہ کے تارے ہیں
لگام ڈالو ان کو تم ورنہ
حسسینی اب ڈالنے والے ہیں

ظالمو کو ساتھ ملا کر تم، مجرم ہو مظلوموں کے
کیا نظر اتے نہیں تم کو لاشے، اپنے ہی جوانوں کے؟
تمہارے ہی اندر گھسے سب قاتل
بلوچوں ، ہزارہ کے، پشتونوں کے

جان لو کہ تم سب قاتل ہو

پیپی  کے تم جیالے ہو
کالے کرتوتوں والے ہو
تمہاری نسل پرستی بھی ملاوٹی ہے
منافق کمینے سالے ہو

وہ قاتل اب بھی زندہ ہیں
اسی سرکار میں تابندہ ہیں
انھیں بغلوں میں گھسا کے پھر
کہتے ہو ہم شرمندہ ہیں؟

جان لو کہ تم سب قاتل ہو

تم منصف نہیں قصاب ہو
اس دھرتی پہ الله کا عذاب ہو
انصاف کا ڈھونگ سب جھوٹا ہے
تمہی تو دجال ہو، کذاب  و

قاتلوں کو چھوڑنے کے، بناتے تم بہانے ہو
اندر ہی اندر تم بھی سب ، جانتے سب ٹھکانے ہو
بےشرم پھر کھل کے کہ دو اب
کہ تم آنکھوں سے  کانے ہو

جان لو کہ تم سب قاتل ہو

کیوں اپنے گریبان میں، جھانکنے سے کتراتے ہو
قاتلوں کا نام تم لینے میں، اتنا کیوں گھبراتے ہو
کیا تمہارے گھر سب محفوظ ہیں؟
کیا اسی لیے شرماتے ہو؟

اے اس قوم کے سوتے لوگو، تم بھی مجرم ہو
زرہ دل میں جھانک کے سوچو، تم بھی مجرم ہو
اس دور کے یزیدیوں کے خلاف
جب تک کھل کے نہ بولو، تم بھی مجرم ہو

جان لو کہ تم سب قاتل ہو

Advertisements